پاکستان میں ہر تیسرا بالغ فرد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے — اور ان میں سے نصف سے زیادہ کو اپنی اس تکلیف کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ۵۰ سال سے زیادہ عمر کے افراد میں یہ تعداد اور بھی زیادہ ہے۔ گھر کے بڑے بوڑھوں کی صحت پر نظر رکھنا اسی لیے ضروری ہے، کیونکہ وہ خود اکثر اپنی تکلیف بیان نہیں کرتے یا اسے بڑھاپے کا معمول سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
بلند فشار خون کیا ہے؟
خون کا دباؤ دو اعداد سے ظاہر ہوتا ہے — اوپر والا (سسٹولک) اور نیچے والا (ڈائسٹولک)۔ عام طور پر ۱۲۰/۸۰ کو معمول سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ مسلسل ۱۴۰/۹۰ سے اوپر رہے تو اسے ہائی بلڈ پریشر کہتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً ۳۳ فیصد بالغ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں، جن میں سے بڑی تعداد کا علاج نہیں ہو رہا۔
والدین میں علامات جو نظرانداز نہ کی جائیں
بلند فشار خون کو اکثر "خاموش قاتل" کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی علامات بہت دھیمی اور غیر واضح ہوتی ہیں۔ تاہم کچھ نشانیاں ایسی ہیں جن پر توجہ دی جائے تو وقت پر مدد ممکن ہے:
- صبح اٹھنے پر سر میں بھاری پن یا درد، خاص طور پر سر کے پچھلے حصے میں
- آنکھوں کے آگے چمک یا دھندلاپن — جو کبھی کبھار ہو اور گزر جائے
- معمولی کام پر سانس کی تنگی یا دل کی دھڑکن کا تیز ہونا
- ناک سے خون آنا — بغیر کسی ظاہری وجہ کے
- رات کو بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا اور نیند کا مکمل نہ ہونا
- کانوں میں آواز آنا یا سنائی دینے میں مسئلہ
- معمول سے زیادہ تھکاوٹ اور چڑچڑاپن
- چہرے یا گردن پر سرخی آنا
کس صورت میں فوری طبی مدد لینی چاہیے؟
اگر گھر کے کسی بزرگ کو اچانک بہت تیز سر درد ہو، بولنے میں مشکل ہو، ایک طرف کے بازو یا چہرے میں سنسناہٹ ہو، یا ہوش و حواس میں ابتری آئے — تو یہ ہائپرٹینسیو کرائسس یا فالج کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں فوری طور پر ۱۱۵ (ایمرجنسی) کال کریں اور مریض کو لٹا دیں۔
کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ماہرین امراض قلب کے مطابق پاکستان میں فالج کے ۶۰ فیصد مریضوں میں پہلے سے بلند فشار خون موجود تھا جس کا علاج نہیں ہو رہا تھا۔
گھر میں فشار خون ناپنے کا صحیح طریقہ
گھریلو بلڈ پریشر مشین (سفیگمومینومیٹر) آج کل آسانی سے دستیاب ہے اور اس کا استعمال سیکھنا مشکل نہیں۔ چند اہم باتیں:
- ناپنے سے پہلے ۵ منٹ بیٹھ کر آرام کریں
- کھانے یا چائے کے فوری بعد نہ ناپیں
- دونوں بازوؤں میں ناپیں اور اونچے نتیجے کو معیار مانیں
- صبح اور شام دو بار ناپ کر لکھتے رہیں
- ایک ہفتے کے نتائج ڈاکٹر کو دکھائیں
طرز زندگی میں کون سی تبدیلیاں فرق ڈالتی ہیں؟
دوا کے ساتھ ساتھ یا ابتدائی مرحلے میں طرز زندگی کی تبدیلیاں بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستانی خوراک میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہے — اچار، پاپڑ، چپس اور باہر کا کھانا اس کے اہم ذرائع ہیں۔
- روزانہ ۵ گرام سے کم نمک (تقریباً ایک چائے کا چمچ)
- صبح ۳۰ منٹ کی سادہ چہل قدمی
- میٹھا اور تلی ہوئی چیزیں کم کریں
- تمباکو اور پان سے اجتناب
- رات کو ۷ سے ۸ گھنٹے کی نیند
- ہفتہ وار ایک بار وزن ناپیں
ڈاکٹر سے ملنے سے پہلے کیا تیاری کریں؟
جب آپ والدین کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں تو ان معلومات کو ساتھ لے جانا مفید ہے:
- پچھلے دو ہفتوں کی صبح و شام کی بلڈ پریشر ریڈنگز
- اگر وہ کوئی دوا کھا رہے ہیں تو اس کی فہرست
- کھانے پینے کی عادات اور نیند کے بارے میں مختصر تفصیل
- خاندان میں دل یا بلڈ پریشر کی بیماریوں کی تاریخ
لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ طب کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ گھر میں باقاعدہ بلڈ پریشر ریکارڈ رکھنے والے مریضوں کی دوا کی خوراک ڈاکٹروں نے زیادہ درست طریقے سے متعین کی۔ یعنی گھر میں کی جانے والی نگرانی براہ راست علاج کو بہتر بناتی ہے۔