دل کا دورہ پڑنے سے پہلے اکثر جسم کئی ہفتے یا مہینے پہلے سے اشارے دیتا رہتا ہے — لیکن ہم ان اشاروں کو "تھکاوٹ" یا "گیس" کا نام دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں دل کی بیماری اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور ۵۰ سال کی عمر اس خطرے کا اہم موڑ سمجھی جاتی ہے۔ مرد اور خواتین دونوں کو اس عمر کے بعد دل کی صحت پر خاص توجہ دینی چاہیے۔
۵۰ سال کے بعد دل پر کیا اثر پڑتا ہے؟
عمر کے ساتھ شریانوں کی دیواریں سخت اور کم لچکدار ہو جاتی ہیں — اس عمل کو آرٹیریوسکلیروسس کہتے ہیں۔ دل کو ایک ہی مقدار خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ ساتھ ہی پاکستانی معاشرے میں ۵۰ سال کی عمر میں اکثر لوگ کم جسمانی سرگرمی، زیادہ کیلوری اور زیادہ دباؤ والی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں — جو مل کر دل کو کمزور کرتے ہیں۔
وہ علامات جو نظرانداز نہ کریں
- سینے میں دبائو، بھاری پن یا جلن کا احساس — خاص طور پر چلتے یا سیڑھیاں چڑھتے وقت
- بائیں بازو، گردن یا جبڑے میں درد جو آتا جاتا رہے
- کسی وجہ کے بغیر پسینہ آنا، خاص طور پر رات کو
- سانس پھولنا جو پہلے نہیں ہوتا تھا
- دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی محسوس ہونا
- ہلکا چکر آنا یا آنکھوں کے آگے اندھیرا
- ٹانگوں یا ٹخنوں میں سوجن جو شام کو بڑھ جائے
پاکستان میں دل کے دورے کے مریضوں پر کیے گئے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ ۴۵ فیصد مریضوں نے ایک ہفتہ پہلے سے سینے میں بے چینی محسوس کر رہے تھے — لیکن علاج نہیں لیا۔
پاکستانی خوراک اور دل کی صحت
پاکستانی روایتی کھانوں میں گھی، مکھن، تلی ہوئی چیزیں اور سرخ گوشت کا استعمال عام ہے۔ یہ تمام چیزیں کولیسٹرول بڑھاتی ہیں اور شریانوں میں چربی جمنے کا سبب بنتی ہیں۔ تاہم خوراک میں چند تبدیلیاں بہت فائدہ مند ہو سکتی ہیں:
- سبزیاں اور دالیں روزانہ کی خوراک کا اہم حصہ بنائیں
- مچھلی ہفتے میں دو بار — اومیگا تھری کا قدرتی ذریعہ
- زیتون کا تیل یا کینولا تیل دل کے لیے بہتر ہے
- میٹھا کم کریں — شوگر بھی کولیسٹرول بڑھاتی ہے
- گہرے رنگ کے پھل اور سبزیاں اینٹی آکسیڈنٹس کا ذریعہ ہیں
کون سے ٹیسٹ ضروری ہیں؟
۵۰ سال کے بعد ہر سال یہ ٹیسٹ کروانے چاہیے، چاہے کوئی علامت نہ ہو:
- فاسٹنگ لپڈ پروفائل (کولیسٹرول، ایل ڈی ایل، ایچ ڈی ایل)
- فاسٹنگ بلڈ شوگر (ذیابیطس کا جائزہ)
- بلڈ پریشر — ہر ڈاکٹر وزٹ پر
- ای سی جی (الیکٹروکارڈیوگرام) — دل کی برقی سرگرمی)
- گردے کا فنکشن ٹیسٹ — کیونکہ گردے اور دل کا گہرا تعلق ہے
ورزش — کتنی اور کیسی؟
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ۵۰ سال کی عمر میں بھاری ورزش دل کے لیے خطرناک ہے۔ لیکن اصل میں ہلکی اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل کو مضبوط رکھتی ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سفارشات کے مطابق ہفتے میں ۱۵۰ منٹ کی اعتدال پسند ایروبک ورزش کافی ہے — یعنی روزانہ صرف ۲۰ سے ۳۰ منٹ کی چہل قدمی۔
خاندان کی تاریخ — کتنا خطرہ؟
اگر آپ کے والد، والدہ یا بھائی بہن کو ۶۵ سال سے پہلے دل کا دورہ پڑا ہو تو آپ کا ذاتی خطرہ اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر سے بات کریں کہ آپ کے لیے کون سی احتیاطی دوا یا طرز زندگی کی تبدیلی مناسب ہے۔